تازہ ترین

جمعہ، 27 نومبر، 2020

بیداری

جس بندۂ حق بیں کی خودی ہوگئی بیدار

شمشیر کی مانند ہے بُرَّندہ و برّاق


اُس کی نگہِ شوخ پہ ہوتی ہے نمودار

ہر ذرّے میں پوشیدہ ہے جو قُوّتِ اشراق


اُس مردِ خدا سے کوئی نسبت نہیں تجھ کو

تُو بندۂ آفاق ہے، وہ صاحبِ آفاق


تجھ میں ابھی پیدا نہیں ساحل کی طلب بھی

وہ پاکیِ فطرت سے ہوا محرمِ اعماق


???????