کل ساحلِ دریا پہ کہا مجھ سے خضَر نےتُو ڈھُونڈ رہا ہے سمِ افرنگ کا تریاق؟اک نکتہ مرے پاس ہے شمشیر کی مانندبُرّندہ و صَیقل زدہ و روشن و بَرّاقکافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گُم ہےمومن کی یہ پہچان کہ گُم اس میں ہیں آفاق!