ہزار بار حکیموں نے اس کو سُلجھایامگر یہ مسئلۂ زن رہا وہیں کا وہیںقصور زن کا نہیں ہے کچھ اس خرابی میںگواہ اس کی شرافت پہ ہیں مہ و پرویںفساد کا ہے فرنگی معاشرت میں ظہورکہ مرد سادہ ہے بیچارہ زن شناس نہیں