وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگاسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ درُوںشرف میں بڑھ کے ثریّا سے مشت خاک اس کیکہ ہر شرَف ہے اسی دُرج کا دُرِ مکنوںمکالماتِ فلاطُوں نہ لِکھ سکی، لیکناسی کے شُعلے سے ٹُوٹا شرارِ افلاطُوں