تازہ ترین

پیر، 19 جولائی، 2021

حقیقتِ ازَلی ہے رقابتِ اقوام


حقیقتِ ازَلی ہے رقابتِ اقوام

نگاہِ پِیرِ فلک میں نہ میں عزیز، نہ تُو


خودی میں ڈُوب، زمانے سے نا اُمید نہ ہو

کہ اس کا زخم ہے درپردہ اہتمامِ رفُو


رہے گا تُو ہی جہاں میں یگانہ و یکتا

اُتر گیا جو ترے دل میں ’لَاشَرِیکَ لَہٗ‘


???????