چھوڑ یورپ کے لیے رقصِ بدن کے خم و پیچرُوح کے رقص میں ہے ضربِ کِلیم اللّٰہی!صِلہ اُس رقص کا ہے تشنگیِ کام و دہنصِلہ اِس رقص کا درویشی و شاہنشاہی!