غلَط نِگر ہے تری چشمِ نیم باز اب تکترا وجُود ترے واسطے ہے راز اب تکترا نیاز نہیں آشنائے ناز اب تککہ ہے قیام سے خالی تری نماز اب تکگُسَستہ تار ہے تیری خودی کا ساز اب تککہ تُو ہے نغمۂ رومیؔ سے بے نیاز اب تک!