اے کہ ہے زیرِ فلک مثلِ شرر تیری نمودکون سمجھائے تجھے کیا ہیں مقاماتِ وجود!گر ہُنَر میں نہیں تعمیرِ خودی کا جوہروائے صُورت گری و شاعری و ناے و سرود!مکتب و مے کدہ جُز درسِ نبودن ندہندبودن آموز کہ ہم باشی و ہم خواہی بود