قوم گویا جسم ہے، افراد ہیں اعضائے قوممنزلِ صنعت کے رہ پیما ہیں دست و پائے قوممحفلِ نظمِ حکومت، چہرۂ زیبائے قومشاعر رنگیں نوا ہے دیدۂ بینائے قوممبتلائے درد کوئی عُضو ہو روتی ہے آنکھکس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ