اس دشتِ جگر تاب کی خاموش فضا میںفطرت نے فقط ریت کے ٹیلے کیے تعمیراَہرام کی عظمت سے نگُوں سار ہیں افلاککس ہاتھ نے کھینچی اَبدِیّت کی یہ تصویر!فطرت کی غلامی سے کر آزاد ہُنَر کوصیّاد ہیں مردانِ ہُنر مند کہ نخچیر!