تازہ ترین

ہفتہ، 10 جولائی، 2021

مخلوقاتِ ہُنر



ہے یہ فِردوسِ نظر اہلِ ہُنَر کی تعمیر

فاش ہے چشمِ تماشا پہ نہاں خانۂ ذات

نہ خودی ہے، نہ جہانِ سحَر و شام کے دور

زندگانی کی حریفانہ کشاکش سے نجات

آہ، وہ کافرِ بیچارہ کہ ہیں اُس کے صنَم

عصرِ رفتہ کے وہی ٹُوٹے ہوئے لات و منات!

تُو ہے مَیّت، یہ ہُنَر تیرے جنازے کا امام

نظر آئی جسے مرقد کے شبستاں میں حیات!


???????