تازہ ترین

پیر، 19 جولائی، 2021

بے جُرأتِ رِندانہ ہر عشق ہے رُوباہی


بے جُرأتِ رِندانہ ہر عشق ہے رُوباہی

بازُو ہے قوی جس کا، وہ عشق یدُاللّٰہی


جو سختیِ منزل کو سامانِ سفر سمجھے

اے وائے تن آسانی! ناپید ہے وہ راہی


وحشت نہ سمجھ اس کو اے مَردکِ میدانی!

کُہسار کی خلوَت ہے تعلیمِ خود آگاہی


دُنیا ہے روایاتی، عُقبیٰ ہے مناجاتی

در باز دو عالم را، این است شہنشاہی!


???????