ہر چند کہ ایجادِ معانی ہے خدا دادکوشش سے کہاں مردِ ہُنَر مند ہے آزاد!خُونِ رگِ معمار کی گرمی سے ہے تعمیرمیخانۂ حافظؔ ہو کہ بُتخانۂ بہزادؔبے محنتِ پیہم کوئی جوہر نہیں کھُلتاروشن شرَرِ تیشہ سے ہے خانۂ فرہاد!