زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغمیں جانتا ہوں وہ آتش ترے وجود میں ہےتری دَوا نہ جنیوا میں ہے، نہ لندن میںفرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یَہود میں ہےسُنا ہے مَیں نے، غلامی سے اُمتوّں کی نجاتخودی کی پرورش و لذّتِ نمود میں ہے!