پانی بھی مسخرّ ہے، ہوا بھی ہے مسخرّکیا ہو جو نگاہِ فلکِ پِیر بدل جائےدیکھا ہے مُلوکِیّتِ افرنگ نے جو خوابممکن ہے کہ اُس خواب کی تعبیر بدل جائےطہران ہو گر عالَمِ مشرق کا جینواشاید کُرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے!٭ بھوپال شیش محل میں لکھے گئے۔